پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس عظمت سعید 65 برس کی عمر پوری ہونے پر اپنےآئینی عہدے سے ریٹائرڈ ہو گئے ہیں

0
1370

پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس عظمت سعید 65 برس کی عمر پوری ہونے پر اپنے آئینی عہدے سے ریٹائرڈ ہو گئے ہیں

جسٹس عظمت سعید کے اعزاز میں عدالت عظمیٰ کے ججز نے فل کورٹ ریفرنس دیا۔ ریفرنس میں عدالت کے سولہ ججز نے شرکت کی جن میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی شامل تھے ۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے جسٹس عظمت سعید کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں ان کے سیسلین مافیا والے ریمارکس یاد دلاتے ہوئے تاریخی قرار دیا۔

عظمت سعید کی ریٹائرمنٹ کے بعد پانامہ فیصلے والے بنچ کے تین ججز عدالت میں باقی رہ گئے ہیں

جسٹس عظمت سعید یکم جون 2012 کو سپریم کورٹ کے جج بنے۔آپ  تقریبا سات سال اور تین ماہ عدالت عظمیٰ میں رہے اور اپنے سامنے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے ثاقب نثار کو ریٹائرڈ ہوتے دیکھا۔

جسٹس عظمت سعید کو یکم دسمبر سنہ 2004 کو لاہور ہائیکورٹ کا جج لگایا گیا تھا۔ اس طرح وہ کل 14 برس اور سات ماہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ سے منسلک رہے۔

جسٹس عظمت سعید اٹھائیس اگست 1954 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور اسی شہر سے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سینئر کیمبرج سینٹ میری اکیڈمی سے کیا۔ انہوں نے گریجویشن سرسید کالج راولپنڈی سے کی۔

عظمت سعید نے 1978 میں وکالت کا شعبہ اختیار کیا اور لاہور ہائیکورٹ میں پریکٹس شروع کی۔ وہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قانونی مشیر رہنے کے بعد قومی احتساب بیورو پراسیکیوٹر بھی رہے۔ انہوں نے مشرف دور میں اٹک قلعے میں بند سیاسی کارکنوں کے خلاف نیب مقدمات کی بطور پراسیکیوٹر پیروی بھی کی۔

شیخ عظمت سعید کو اپنے منفرد ریمارکس اور انداز سے پاکستانی میڈیا کے ذریعے عوام میں پذیرائی ملی۔

انہوں نے پانامہ کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیا۔ پانامہ کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پر ایک سماعت کے دوران انہوں نے ججز کے بارے میں مسلم لیگ ن کے سیاست دانوں کی پریس کانفرنسز اور بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ن لیگ کی حکومت کو اٹلی کی ’سیسلین مافیا‘ سے بھی تشبیہ دی تھی جس نے ان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

جسٹس عظمت سعید کے ان ریمارکس کو چیف جسٹس آصف کھوسہ کے ’گاڈ فادر‘ ڈائیلاگ والے فیصلے کے بعد سب سے زیادہ شہرت ملی اور اس سے بھی زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

جسٹس عظمت سعید عدالت کے ان بنچز کا حصہ رہے جنہوں نے ن لیگ کے رہنماؤں کو توہین عدالت کے مقدمات میں مختصر ٹرائل کے بعد نااہل کیا۔

LEAVE A REPLY