سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار حکمران جماعت پر برس پڑے

0
515

لاہور:سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کافی عرصے بعد خاموشی توڑتے ہوئے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تبدیلی کا نہیں تباہی کا سال ہے، حکومت نے ملک کو ایک سال میں 135 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے، جی ڈی پی میں 50 ارب ڈالر کمی آئی ہے، جی ڈی پی گروتھ 3.3فیصد ہو چکی ہے۔مالی خسارہ جس طرح کسی حکومت کی کارکردگی کو واضح کرتا ہے اسی طرح جی ڈی پی گروتھ بھی اس ملک کی ترقی کو واضح کرنے کا ایک بہترین انڈیکیٹر ہے اور وہ انڈیکیٹ کرتا ہے کہ جتنی جی ڈی پی گروتھ ہوگی اتنا ہی وہ ملک معاشی طور پر زیادہ ترقی کررہا ہے اور وہاں غربت میں اس طرح کمی ہوگی جبکہ وہاں روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے اور وہاں کا معاشی ترقی کی وجہ سے لوگوں کی زندگی بہتر ہوگی۔ جو جی ڈی پی گروتھ مسلم لیگ ن کے دور میں 5.8 فیصد تک تھا وہ کم ہوکر 3.3 فیصد پر آچکا ہے اور جب یہ روائز نمبر آئیں گے تو یہ2.7یا 2.8فیصدپہ چلا جائیگا۔ انہوں نے پیشنگوئی کرتے ہوئے کہا کہ 2020-21 تک جی ڈی پی گروتھ 2.7 یا 2.5 فیصد ہو جائے گی تو اس حکومت نے ابھی اس سال میں بھی جہاں ڈکلیئر تھا کہ انھیں نے8ارب خرچ کرنا ہے انہوں نے نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی 330 ارب سے کم ہو کر 280 ارب تک پہنچ گئی ہے یعنی جی ڈی پی میں 50 ارب ڈالر کمی آئی ہے، سٹاک ایکسچینج 100 ارب ڈالر سے کم ہو کر 40 ارب ڈالر پر پہنچ گئی ہے۔جس میں 60 ارب ڈالر کی کمی آئی ہے اور اس حکومت نے بیرونی قرضوں میں 25 ارب اضافہ کیا اس طر ح یہ سارے ملا کے اس حکومت نے ایک سال میں 135 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔

LEAVE A REPLY