کیا منگلا ڈیم خطرے میں ہے ؟

0
567

واضح رہے کہ گزشتہ روز آنے والے زلزلے سے میرپور میں واقع منگلا ڈیم معجزاتی طور پر محفوظ رہا اور اس کے قریب سے گزرتی ایک سڑک کو نقصان پہنچا۔ جس وقت زلزلہ آیا اس وقت ڈیم سے 900 میگاواٹ بجلی کی تیاری کا عمل جاری تھا جو ضائع ہوگئی اور اب ملک کے مختلف علاقوں کو لوڈشیڈنگ کا سامنا رہے گا۔

سال 2008 میں انٹرنیشنل واٹر پاور میگزین کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک تحقیق رپورٹ کے مطابق زلزلے پانی کے ذخائر خصوصا ڈیم کے لیے انتہائی خطرناک ہیں کیونکہ زلزلے کے جھٹکوں سے ڈیم میں تھرتھراہٹ یا وائبریشن پیدا ہوتی ہے جس سے ڈیم میں نصب آلات ہی نہیں بلکہ اس کے پورے اسٹرکچر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اس حادثے کے بعد کچھ آوازیں ایسی بھی آرہی ہیں کہ کیا منگلا ڈیم بنانے کے لیے اس مقام کا انتخاب ٹھیک تھا؟ کیا ڈیم کی تعمیر سے پہلے انجینئرز نے ارضیاتی سروے کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی تھی؟ کیونکہ کسی فالٹ زون میں ڈیم بنانا بہتر فیصلہ تصور نہیں کیا جاتا.

اب اس زلزلے کے بعد ڈیم کا مستقبل کیا ہوگا، ماہرین یقینی طور پر اس جانب توجہ دیں گے، کیونکہ یہ زلزلہ 5.8 کی نسبتاً کم شدت کا تھا، اگر خدانخواستہ شدت زیادہ ہوتی تو مزید نقصان ہوسکتا تھا۔

5.8 شدت کا ایک اور زلزلہ تباہی پھیلا کر جاچکا ہے اور ہمیشہ کی طرح ہماری حکومتوں کی جانب سے بیانات جاری کردیے گئے ہیں، لیکن کیا کبھی پاکستان میں ایک مکمل ڈیزاسٹر پالیسی نافذ ہوسکے گی؟

کیا فالٹ زون میں واقع ان علاقوں میں تعمیرات سے متعلق کوئی قانون یا کوڈ آف کنڈکٹ نافذ کیا جاسکے گا؟

یاد رکھیے! زلزلہ ایک قدرتی آفت ہے جس سے بچنا ترقی یافتہ ممالک کے لیے بھی ممکن نہیں، مگر ان زلزلوں کی وجہ سے ہونے والی تباہی کو محدود کرنا ہم انسانوں کے ہاتھ میں ہے۔ اور ایسا اسی وقت ہوسکتا ہے جب فالٹ زون میں واقع علاقوں میں محفوظ تعمیرات کی جائیں، لیکن افسوس کہ اب تک ایسا نہیں ہوسکا ہے۔

LEAVE A REPLY