ڈاکوؤں کا کہنا ہے کہ جگر جلال کروڑوں کی آسامی ہے، دو تین لاکھ کا آدمی نہیں

0
452

پاکستان کے صوبے سندھ کے گلوکار جگر جلال کا کہنا ہے کہ ان کے اغوا کیے جانے کے واقعے کے دوران ڈاکو انھیں کہتے رہے ‘جگر جلال کروڑوں کی آسامی ہے، دو تین لاکھ کا آدمی نہیں۔ ‘

پانچ روز قبل کوکو کورینا فیم جگر جلال کو ان کے بیٹے اور بھانجے سمیت سندھ کے علاقے شکارپور سے اغوا کیا گیا تھا۔ ان کی رہائی 23 اگست کی شب عمل میں آئی ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان کی رہائی آپریشن کے دوران عمل میں آئی جبکہ جلال تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی بازیابی کسی ڈیل کا نتیجہ ہے۔

جگر جلال نے بی بی سی کو خصوصی انٹرویو میں اپنے اغوا سے لیکر رہائی تک کا قصہ سنایا۔ انھوں نے بتایا کہ ڈاکو انھیں کہتے تھے کہ ‘استاد آپ کو پیسے تو دینے پڑیں گے۔ ‘

انھوں نے بتایا کہ لوگ ٹیلیفون پر محفلوں کی بکنگ کرتے ہیں عید سے قبل بھی ایک ٹیلیفون آیا کہ ‘ہمارا پروگرام ہے، کرم پور کے برابر میں ہمارا گاؤں ہے، آپ کو وہاں پر آنا ہے۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے، آپ کچھ پیسے بھیج دیں۔ انھوں نے مجھے دس ہزار ایزی پیسہ کر کے بھیج دیے۔ ‘

ان کا کہنا تھا کہ ’چند روز کے بعد اسی بندے کا فون آیا کہ اتوار کی شام ہمارا پروگرام ہے، آپ کرم پور تک آجائیں، ہمارا بندہ آپ کے انتظار میں ہوگا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو مطلوبہ شخص ملا، اس نے چائے پلائی اور اس کے بعد کہا کہ میں موٹر سائیکل پر چلتا ہوں آپ میرے پیچھے آئیں۔ ‘

‘ہم سمجھ گئے یہ ڈاکو ہیں’

جگر جلال بتاتے ہیں کہ ‘ہم جیسے ہی آگے گئے تو اس نے موٹر سائیکل روک لی۔ ہم نے بھی کار کو بریک لگائی، اچانک چھ لوگ آگئے جن میں تین کے پاس کلاشنکوف اور تین کے پاس لاٹھیاں تھیں (اور) کہا کہ گاڑی سے اترو۔ ہم سمجھ گئے کہ یہ ڈاکو ہیں۔ ‘

ان کے مطابق ڈاکوؤں نے دکھاوے کے لیے موٹر سائیکل سوار کو ڈرایا، دھمکایا جس کے بعد وہ فرار ہو گیا۔

‘انھوں نے ہم سے انگوٹھی، موبائل فون وغیرہ چھین لیے اور نہر کے کنارے لے جا کر کہا کہ کپڑے اتارو اور ایک بڑی ٹیوب دی کہ اس کے ذریعہ نہر عبور کرنی ہے۔ میں نے کہا کہ میں کپڑے نہیں اتاروں گا۔‘

جگر جلال کے مطابق انھیں اور ان کے ساتھیوں کو ڈھائی گھنٹے کچے کے علاقے میں پیدل چلایا گیا اور بعد میں دریا کے قریب کسی نامعلوم مقام پر پہنچایا گیا جہاں انھیں پانی اور چائے پلائی گئی۔

ڈاکو بھی مداح نکلے

جگر جلال کے مطابق ڈاکو ان کے مداح تھے اور ان کے پاس موبائل میں جگر کے گیت بھی موجود تھے۔

جگر جلال بتاتے ہیں کہ انھیں پیروں میں زنجیریں باندھ کر بیٹھک نما کمرے میں زمین پر چادر بچھا کر بیٹھا دیا گیا۔

‘اسی دوران ایک ڈاکو نے نوجوان کو کہا کہ جگر جلال کا خیال کرو، یہ نازک انسان ہے، اس کے لیے گدا لے کر آؤ۔ وہ نوجوان گیا اور نیچے بچھانے کے لیے گدا لے آیا۔ ‘

ڈاکوؤں نے انھیں سولر فین بھی لگا کر دیا اور ان کی خاطر مدارت بھی کی۔ جگر کے مطابق ڈاکوؤں نے ان کی بڑی مہمان نوازی کی اور کہا کہ ‘آپ ہمارے پاس امانت ہیں۔ ‘

‘امید نہیں تھی زندہ بچ نکلیں گے’

پولیس کے مطابق جگر جلال سمیت پانچ افراد کی بازیابی کے لیے تیغانی ڈاکوؤں کے آٹھ کے قریب رشتے داروں کو گرفتار کیا گیا جبکہ آپریشن کے دوران ایک ڈی ایس پی بھی ہلاک ہوا۔

جگر جلال کے بیٹے آفتاب کا کہنا ہے کہ انھیں امید نہیں تھی کہ کہ ‘زندہ بچ نکلیں گے ‘ کیونکہ پولیس افسر کی ہلاکت کے بعد انھوں نے ہمیں کہا کہ ‘اپنے رشتے داروں سے کہو کہ پولیس کارروائی روکیں ورنہ ہم تمہیں مار دیں گے اور تمہاری لاشیں بھی نہیں ملیں گی۔ ‘

ڈاکوؤں کی قید میں ہی جگر جلال نے سندھی نیوز چینل کے ٹی این نیوز سے ٹیلیفون پر بات کی تھی، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ڈاکوؤں سے علاقے کے سرداروں کے ذریعے مذاکرات کیے جائیں۔

جگر جلال کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں کے دوست شہروں میں نیوز چینلز دیکھتے تھے اور ٹیلیفون پر انھیں آگاہ کرتے تھے جبکہ ڈاکوؤں کے کہنے پر ہی انھوں نے نیوز چینل سے بات کی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس نے ڈاکوؤں پر بڑا دباؤ ڈالا جس کی وجہ سے ان کی رہائی کا معاملہ حل ہوا۔

‘پولیس سے ان کا سیٹ اپ ہو گیا جس کے بعد ہمیں ایک کشتی میں سوار کر کے کنارے پر چھوڑ گئے جہاں شکارپور اور کشمور کے ایس پی موجود تھے جبکہ آٹھ پولیس موبائل، تین بکتر بند گاڑیاں بھی ہمراہ تھیں۔ ‘

جگر کا کہنا ہے کہ پولیس نے انھیں ایک کار بھیجی اور کہا کہ ‘سکھر کے ڈی آئی جی پولیس کے پاس چلتے ہیں۔ ‘

واضح رہے کہ ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر جمیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ جگر جلال کو آپریشن کر کے بازیاب کرایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘پولیس کی پہلی ترجیح مغویوں کی باحفاظت واپسی تھی، اب ڈی ایس پی کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے گا۔ ‘

‘ہم محبت باٹنے والے گلوکار ہیں’

اس سے قبل ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر جمیل نے کہا تھا کہ جگر جلال کو تاخیر سے آنے اور خواتین ساتھی ڈانسرز نہ لانے پر ڈاکوؤں نے یرغمال بنایا ہے۔

جگر جلال نے ان الزامات کو متسرد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچے کے علاقے میں وہ پہلے بھی محفل کے لیے جاتے رہے ہیں لیکن اس علاقے میں وہ پہلی مرتبہ گئے تھے۔

جگر جلال نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ’وہ جہاں بھی جاتے ہیں ٹیلیفون کرنے والے پر اعتبار کر کے چلے جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ ان کی روزی روٹی ہے۔ لیکن اب سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہو گا۔ کیونکہ اب پہلے جیسا دور نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم پیار و محبت باٹنے والے گلوکار ہیں اگر ہمیں بھی اغوا کیا جائے گا تو پھر تو دنیا میں اعتبار نہیں رہے گا۔ ‘

یاد رہے کہ شکارپور ضلع گذشتہ کئی برسوں سے بدامنی کا شکار ہے۔ اس سے قبل یہاں فرقہ وارانہ شدت پسندی کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ جبکہ حال ہی میں یہاں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

سندھ پولیس نے گذشتہ تین ماہ میں متعدد آپریشن کیے ہیں لیکن ان آپریشنز میں پولیس کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام نے 23 اگست کو سکھر میں پولیس کمانڈ کے اجلاس کی صدارت کی جس میں ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس میں چھپی کالی بھیڑوں کی جیسے جیسے نشاندہی ہوتی ہے ان کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ ‘شہید ڈی ایس پی کے بیٹوں نے بھی کچھ نشاندہی کی ہے۔ ان پر تفتیش کی جائے گی۔ ‘

LEAVE A REPLY