تمام ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کئے جائیں شاہد خاقان عباسی کا سپیکر کو خط

0
504
shaid khaqan abbsi wrote a letter to seaker

خط میں کہا گیا کہ جیل میں قید اور زیر حراست ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے جائیں، یہ حقیقت ہے کہ سپیکر آفس حکومت کے دباؤ میں ہے، سپیکر آفس قیدی ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کی ذمہ داری نبھانےمیں ناکام رہا ہے ۔ دو بار میرے پروڈکشن آرڈرز اجلاسوں کے بعد موصول ہوئے، سپیکر آفس کو خط بھی بھیجا لیکن جواب نہیں ملا، میرے پروڈکشن آرڈرز جاری ہوگئے تو بھی ایوان میں نہیں آؤں گا، تمام قیدی ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری ہونے تک ایوان میں نہیں جاؤں گا

میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب کا ادارہ ہی غلط ہے،یہ مسلم لیگ (ن) کو توڑنے کے لیے بنایا گیا تھا، چیئرمین نیب کی تقرری کے لیے قوم سے معافی مانگتا ہوں، پیپلز پارٹی کی طرف سے نام آیا تھا، اتفاق رائے سے تقرری کا فیصلہ کیا۔

شاہد خاقان وباسی نے مزید کہا کہ مجھ پر الزام لگایا میں وزارت خارجہ کی گاڑی استعمال کرتا ہوں، میں ملک کا وزیراعظم تھا، بتا دیتے تو آفس پہنچنے کے لیے تانگہ یا ٹیکسی کرا لیتا، ایک سال سے نیب تفتیش کر رہا ہے، 55 دن سے ریمانڈ چل رہا ہے، میں نے اگر کوئی کرپشن کی ہے تو بتائیں کیا کرپشن کی گئی ہے، تفتیشی افسر کہتا ہے کہ کابینہ کا فیصلہ غلط تھا، یہ فیصلہ ہونا چاہیے ملک کابینہ نے چلانا ہے یا نیب نے۔

دوسری جانب احتساب عدالت نے ایل این جی کیس میں شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور عمران الحق کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14 دن کی توسیع کردی، احتساب عدالت نے حکم دیا کہ تینوں ملزموں کو 26 ستمبر کو دوبارہ پیش کیا جائے۔

LEAVE A REPLY